Iran Holocaust

جرنل · UR · · 8 min read

مہسا امینی: ایک شہادت کی وراثت جو ایران بدل گئی

22 سالہ مہسا امینی کی حراست میں موت نے ایران میں ایک نسلی تحریک کو جنم دیا جس نے احتجاج کے گرامر کو یکسر تبدیل کر دیا۔ یہ مضمون اس غیر معمولی تبدیلی کا جائزہ لیتا ہے جو 'عورت، زندگی، آزادی' کے نعرے تلے رونما ہوئی۔

Ideophagous · CC BY-SA 4.0 · Wikimedia Commons

مہسا کا انجام: ایک قوم کے لیے بیداری

13 ستمبر 2022 کو، 22 سالہ مہسا جینا امینی کو تہران میں اخلاقی پولیس (گشت ارشاد) نے اس الزام پر گرفتار کیا کہ انہوں نے 'جبری حجاب' قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق، پولیس وین میں لے جانے کے بعد انہیں شدید مارا پیٹا گیا، جس کے نتیجے میں وہ کوما میں چلی گئیں۔ تین دن بعد، 16 ستمبر 2022 کو، وہ ہسپتال میں انتقال کر گئیں۔ سرکاری حکام نے دعویٰ کیا کہ ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی، لیکن ان کے خاندان اور عوام نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا۔ ہسپتال سے لیک ہونے والی تصاویر نے ان کے سر اور چہرے پر چوٹوں کی نشاندہی کی، جس نے سرکاری بیان پر شکوک و شبہات کو مزید گہرا کر دیا۔ برومند سینٹر اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فوری طور پر اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا، لیکن ایران میں حکام نے اس کی پرواہ نہیں کی۔

مہسا کی موت صرف ایک فرد کا المیہ نہیں تھی؛ یہ ایران میں کئی دہائیوں کے جبر، خواتین کے حقوق کی پامالی، اور ریاستی تشدد کے خلاف جمع شدہ غصے کے لیے ایک چنگاری بن گئی۔ واقعہ کی خبر تیزی سے پھیلی، خاص طور پر سوشل میڈیا پر، جہاں #MahsaAmini اور #مهسا_امینی ہیش ٹیگز عالمی سطح پر ٹرینڈ کرنے لگے۔ ابتداء میں، احتجاجات مہسا کے آبائی شہر سقز میں شروع ہوئے، جہاں ان کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ خواتین نے علامتی طور پر اپنے حجاب جلائے اور 'عورت، زندگی، آزادی' کے نعرے لگائے جو جلد ہی پورے ملک کی احتجاجی تحریک کا مرکزی نعرہ بن گیا۔

File:Jin Jiyan Azadi by Btoy, Schwendergasse, Vienna.jpg
Photo: Herzi Pinki · CC BY-SA 4.0 · via Wikimedia Commons

تہران سے زاہدان تک: ایک ملک گیر تحریک

مہسا کی موت کے چند ہی دنوں میں، احتجاجات ایران کے 31 صوبوں کے کم از کم 150 شہروں میں پھیل گئے۔ طلباء، خاص طور پر خواتین طالبات، ان مظاہروں میں سر فہرست تھیں۔ انہوں نے یونیورسٹیوں اور اسکولوں میں حجاب اتارے، کلاسوں کا بائیکاٹ کیا، اور حکومتی مخالف نعرے لگائے۔ تہران یونیورسٹی، اصفہان یونیورسٹی، اور شیراز یونیورسٹی جیسے تعلیمی ادارے مظاہروں کے اہم مراکز بن گئے۔ ایران ہیومن رائٹس (IHR) کی رپورٹ کے مطابق، بہت سے کالج کے طلباء کو تعلیمی اداروں سے معطل کر دیا گیا یا گرفتار کر لیا گیا۔

ہڑتالوں کا دائرہ بھی وسیع ہوا، جس میں بزنس مالکان اور دکانداروں نے حکومتی مظالم کے خلاف اپنے کاروبار بند کر دیے۔ ایران کے تیل کے شعبے میں کام کرنے والے محنت کشوں نے بھی ہڑتالوں میں حصہ لیا، جس نے حکومتی معیشت پر دباؤ بڑھایا۔ ان احتجاجات کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ کسی ایک لیڈر یا منظم حزب اختلاف کے بغیر خود بخود پھیل رہے تھے۔ یہ عوامی مایوسی اور تبدیلی کی گہری خواہش کی عکاسی تھی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹس نے حکومتی سکیورٹی فورسز کے پرتشدد کریک ڈاؤن کو دستاویزی شکل دی، جس میں ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا اور سینکڑوں کو ہلاک کیا گیا۔

مہسا کی موت صرف ایک فرد کا المیہ نہیں تھی؛ یہ ایران میں کئی دہائیوں کے جبر، خواتین کے حقوق کی پامالی، اور ریاستی تشدد کے خلاف جمع شدہ غصے کے لیے ایک چنگاری بن گئی۔
File:Iranian women's protest against the mandatory hijab at Tehran Judicial Palace.jpg
Photo: Unknown authorUnknown author · Public domain · via Wikimedia Commons
مہسا امینی احتجاجات میں ہلاکتیں اور گرفتاریاں (ستمبر 2022 - نومبر 2022)
پیرامیٹرتعداد
کل ہلاکتیں (IHR تخمینہ)481
ہلاک ہونے والے بچے64
ہلاک ہونے والی خواتین61
کل گرفتاریاں (برومند سینٹر تخمینہ)تقریباً 19000
سزائے موت پانے والےکم از کم 4 (آفیشل)
سزائے موت کے خطرے سے دوچاردرجنوں

'عورت، زندگی، آزادی': ایک نیا احتجاجی گرامر

’عورت، زندگی، آزادی‘ (زن، زندگی، آزادی) کا نعرہ ایک ایسا کثیر الثقافتی مطالبہ بن گیا جس نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو متحد کیا۔ یہ نعرہ صرف خواتین کے حقوق کے بارے میں نہیں تھا؛ یہ آزادی، انسانی وقار، اور جابرانہ مذہبی حکومت کے خاتمے کے بارے میں تھا۔ اس تحریک نے ایران کی پچھلی احتجاجی لہروں سے خود کو ممتاز کیا۔ 2009 کی 'گرین موومنٹ' اور 2019 کے 'خونی نومبر' کے احتجاجات میں بنیادی طور پر سیاسی اصلاحات اور معاشی مطالبات پر توجہ دی گئی تھی، جبکہ مہسا تحریک نے صنفی مساوات اور شخصی آزادیوں کو مرکز نگاہ بنایا۔

اس تحریک میں خواتین کا کردار غیر معمولی تھا۔ انہوں نے نہ صرف اپنے حجاب اتارے اور جلائے بلکہ سکیورٹی فورسز کا بہادری سے مقابلہ بھی کیا۔ ان کی قیادت اور جرات نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی اور انہیں بین الاقوامی حمایت ملی۔ ان خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز عالمی میڈیا میں وائرل ہوئیں، جس نے ایران کے مذہبی جبر کی حقیقت کو بے نقاب کیا۔ یہ احتجاج محض سیاسی مطالبات نہیں تھے بلکہ سماجی اور ثقافتی تبدیلی کی ایک گہری خواہش کا اظہار تھے، جس میں خواتین اپنی زندگیوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کو تیار نہیں تھیں۔

File:Demonstration of Hijab & modesty in Nishapur- July 12 2013 13.JPG
Photo: Sonia Sevilla · CC BY-SA 3.0 · via Wikimedia Commons
مہسا امینی احتجاجات میں صوبائی ہلاکتیں (ستمبر - نومبر 2022) 0275481108135 سیستان و بلوچستانمغربی آذربائیجانکردستانتہرانمازندرانالبرزگیلانخراسان رضویفارس ہلاکتوں کی تعداد صوبہ
مہسا امینی احتجاجات میں صوبائی ہلاکتیں (ستمبر - نومبر 2022)

جبری حجاب کی حقیقت: ایک ظالمانہ قانون

ایران میں جبری حجاب کا قانون1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد نافذ کیا گیا تھا۔ یہ قانون خواتین کو عوامی مقامات پر سر ڈھانپنے پر مجبور کرتا ہے۔ برسوں سے، اس قانون کے تحت خواتین کو ہراساں کیا جاتا رہا ہے، گرفتار کیا جاتا ہے اور بعض اوقات تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ اخلاقی پولیس، جو اس قانون کو نافذ کرتی ہے، اپنی سختی اور بے رحمی کے لیے بدنام ہے۔ برومند سینٹر کی رپورٹوں کے مطابق، جبری حجاب کے خلاف مزاحمت ایران میں ہمیشہ موجود رہی ہے، لیکن مہسا امینی کی موت نے اسے ایک نئے عروج پر پہنچا دیا۔

اس قانون کا نفاذ صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ حکومتی کنٹرول کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ خواتین کے جسم پر حکومتی اختیار، خاص طور پر حجاب کے ذریعے، ایرانی نظام کے لیے ایک علامتی ستون ہے۔ مہسا تحریک نے اس ستون کو چیلنج کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین اب اس نوعیت کے جبر کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ بین الاقوامی تنظیموں جیسے ہیومن رائٹس واچ نے بار ہا اس قانون کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ حالانکہ قانون میں کوئی سرکاری تبدیلی نہیں آئی، مگر عام شہریوں نے اب عوامی مقامات پر اس کی عدم تعمیل کو معمول بنا لیا ہے۔

حکومتی کریک ڈاؤن اور عزم کی قیمت

ایران کی حکومت نے مہسا تحریک کو کچلنے کے لیے بے رحمانہ طاقت کا استعمال کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ایران ہیومن رائٹس (IHR) کی رپورٹس کے مطابق، سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر براہ راست گولیاں برسائیں، آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ اس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے، جن میں بچے بھی شامل تھے۔ نومبر 2022 تک، IHR کے مطابق، 481 مظاہرین ہلاک ہو چکے تھے، جن میں 64 بچے شامل تھے۔ ہزاروں افراد، جن میں صحافی، وکلاء، طلباء اور انسانی حقوق کے کارکن شامل تھے، کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے بہت سے قید خانوں میں تشدد کا نشانہ بنے اور کچھ کو سزائے موت بھی دی گئی، جیسے کہ محسن شکاری اور مجید رضا رہنورد۔

انٹرنیٹ کنیکشن کو بار بار بند کیا گیا تاکہ مظاہرین کو منظم ہونے اور معلومات پھیلانے سے روکا جا سکے۔ واٹس ایپ، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کی گئی، جس سے شہری مزید تنہائی کا شکار ہوئے۔ اس کے باوجود، شہری نے نئے طریقے اپنا کر معلومات کا تبادلہ جاری رکھا۔ اس وسیع پیمانے پر ہونے والے کریک ڈاؤن کے باوجود، مظاہرین کا عزم کم نہیں ہوا۔ خواتین نے بے خوفی سے اپنے حجاب اتارے اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہیں، جو اس تحریک کی غیر معمولی لچک کی علامت تھی۔ عالمی برادری نے ایرانی حکومت کے اقدامات کی مذمت کی، اقوام متحدہ اور کئی مغربی ممالک نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کیں۔

عالمی ردعمل اور ایرانی ڈائسپورہ کا کردار

مہسا امینی کی موت اور اس کے بعد کی تحریک نے عالمی سطح پر بے مثال حمایت حاصل کی۔ 'عورت، زندگی، آزادی' کا نعرہ دنیا بھر کی زبانوں میں گونجا۔ یورپی شہروں جیسے پیرس، برلن، اور لندن سے لے کر شمالی امریکہ کے شہروں تک، ہزاروں ایرانی ڈائسپورہ کے افراد نے ایران میں اپنے ہم وطنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے ریلیاں نکالیں، احتجاجی مظاہرے کیے، اور عالمی رہنماؤں سے ایرانی حکومت پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ بی بی سی اور رائٹرز جیسی عالمی خبر رساں ایجنسیوں نے مسلسل ایرانی مظاہروں کی کوریج کی، جس سے یہ تحریک دنیا کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔

اقوام متحدہ نے ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور سکیورٹی فورسز کے پرتشدد کریک ڈاؤن کی مذمت کی۔ امریکہ، کینیڈا، اور یورپی یونین نے ایران کے اخلاقی پولیس کے عہدیداروں اور دیگر اداروں پر پابندیاں عائد کیں جو مظاہرین کے خلاف تشدد میں ملوث تھے۔ عالمی شخصیات، فنکاروں اور سیاست دانوں نے بھی ایرانی خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا، جس سے اس تحریک کو مزید فروغ ملا۔ ایرانی ڈائسپورہ نے مالی امداد اور معلومات کی تشہیر کے ذریعے بھی اندرونی تحریک کی حمایت کی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض ایک قومی نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی جدوجہد بن چکی ہے۔

ایک بدلتا ہوا سماجی منظر نامہ

مہسا امینی کی موت کے بعد، ایران کا سماجی منظر نامہ خاص طور پر خواتین کے لیے نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے۔ اگرچہ جبری حجاب کا قانون سرکاری طور پر ختم نہیں ہوا، لیکن اس کے نفاذ میں ایک واضح نرمی نظر آئی ہے۔ تہران اور دیگر بڑے شہروں میں، خواتین کی ایک بڑی تعداد اب عوامی مقامات پر بے حجاب نظر آتی ہے، اور اخلاقی پولیس کی موجودگی میں کمی آئی ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ عوامی مزاحمت نے حکومت کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ یہ تبدیلی حکومت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے، جو اپنی قانونی حیثیت اور طاقت کی علامتوں کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

تاہم، حکومت نے اب بھی متبادل طریقوں سے خواتین پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔ سی سی ٹی وی کیمرے اور 'ذہین نظام' متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ حجاب کی خلاف ورزی کرنے والی خواتین کی شناخت کی جا سکے اور انہیں عدالتوں کے ذریعے جرمانے یا دیگر سزائیں دی جا سکیں۔ نئے قوانین اس وقت زیر غور ہیں جو حجاب کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مزید سخت اقدامات تجویز کرتے ہیں۔ اس کے باوجود، عوام، خاص طور پر نوجوان نسل، کی جانب سے مزاحمت جاری ہے۔ یہ واضح ہے کہ مہسا امینی کی وراثت نے ایرانی معاشرے میں ایک ایسا بیج بو دیا ہے جس کی جڑیں گہری ہو چکی ہیں اور جسے اب آسانی سے اکھاڑا نہیں جا سکتا۔ آئندہ سالوں میں، اس تبدیلی کی مکمل وسعت اور اثرات واضح ہوں گے، لیکن ایک بات یقینی ہے: ایران کی خواتین اب پیچھے ہٹنے والی نہیں ہیں۔

المصادر

  1. Iran Human Rights (IHR) – Iran uprising
  2. Amnesty International – Iran: New details of brutal repression of protesters
  3. Human Rights Watch – Iran: Death of Mahsa Amini
  4. Boroumand Center – Iran Human Rights Documentation Center – Mahsa Amini Protests
  5. BBC News – Mahsa Amini: What we know about woman who died in Iran
  6. Reuters – Iran's Mahsa Amini: A turning point for women's rights?
  7. IranWire – The Mahsa Amini Protests: One Year On

← جرنل