حقائق أساسية
- 2026 کے ایرانی انقلاب میں کم از کم 60 بچے ہلاک ہوئے، جن میں سے اکثر راست فائرنگ سے مارے گئے۔
- ملک گیر مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے بچوں کی اوسط عمر 15 سال تھی۔
- کیان پیرفلک 10 سال کا تھا جب اسے 16 نومبر 2026 کو ایزہ میں سرکاری ایجنٹوں نے گولی مار کر ہلاک کیا۔
- سیستان و بلوچستان کے علاقوں میں سب سے زیادہ بچوں کی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، خاص طور پر زاہدان میں۔
- ہیومن رائٹس واچ نے 2026 میں حکومت کو بچوں کے خلاف تشدد پر جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا۔
- اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کی کمیٹی نے 2026 میں ایران سے بچوں کے قتل عام کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
- نکیٰ اسکندری 17 سال کی عمر میں تہران میں مظاہرے کے دوران شدید زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گئی۔
- ایران ہیومن رائٹس (IHR) نے 2026 میں 18 سال سے کم عمر کے 60 سے زائد افراد کی فہرست شائع کی۔
تعارف: ایک سرخ سرما کی المناک داستان
2026 کا ایرانی انقلاب، جسے 'سرخ سرما' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک جدوجہد کا دور تھا جو حکومتی مظالم کے خلاف اٹھا تھا۔ اس جدوجہد میں نہ صرف بزرگ اور جوان شامل تھے بلکہ اس کی قیمت معصوم ترین جانوں کو بھی چکانی پڑی۔ یہ وہ بچے تھے جن کے خواب، ہنسی اور مستقبل کو ریاست کی بے رحمانہ طاقت نے کچل دیا۔ ان کے نام محض اعداد و شمار نہیں بلکہ غیر معمولی جرات اور ناقابل فراموش قربانی کی داستانیں ہیں۔ اس مضمون کا مقصد ان کے ناموں، عمروں اور ان دردناک حالات کو اجاگر کرنا ہے جن میں انھوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ یہ بچے، جو اس ملک کے تابناک مستقبل کی علامت تھے، محض مظاہروں کا حصہ نہیں تھے بلکہ آزادی اور وقار کی پکار تھے۔
عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے 2026 کے دوران ایران میں بچوں کے خلاف ریاست کے تشدد کی شدید مذمت کی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹس نے واضح کیا کہ ایرانی سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بلا امتیاز مہلک طاقت کا استعمال کیا، جس کا نشانہ چھوٹے بچے بھی بنے۔ یہ وہ سیاہ باب ہے جہاں انسانی حقوق کی بنیادی اقدار پامال ہوئیں اور بچوں کو ان کے بچپن سے محروم کر دیا گیا۔ یہ المناک واقعات عالمی ضمیر پر ایک بھاری بوجھ ہیں اور ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ آزادی کی جنگ اکثر کتنی قربانیاں مانگتی ہے۔
کیان پیرفلک: ایک المناک علامت
10 سالہ کیان پیرفلک 2026 کے ایرانی انقلاب کا سب سے کم عمر اور سب سے زیادہ پہچانا جانے والا شہید بن گیا۔ 16 نومبر 2026 کو، وہ اپنے والد، والدہ اور بھائی کے ساتھ ایزہ شہر میں اپنی کار میں جا رہا تھا جب سرکاری ایجنٹوں نے اس کی گاڑی پر براہ راست فائرنگ کر دی۔ اس کے والد بھی شدید زخمی ہوئے، جبکہ کیان موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ اس واقعے نے پورے ایران کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور کیان کا نام ستم رسیدہ ایرانی عوام کی ہمت اور مزاحمت کی علامت بن گیا۔ اس کی والدہ، جس نے اپنے بیٹے کی ہلاکت کے بعد عوامی طور پر ایرانی حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا، نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔
کیان کی تدفین کے موقع پر ہزاروں افراد جمع ہوئے، جنہوں نے حکومتی مظالم کے خلاف احتجاج کیا۔ اس کی والدہ کا کہنا تھا کہ کیان پر براہ راست گولی چلائی گئی تھی، جسے حکام اس وقت رد کر رہے تھے۔ بعدازاں، کیان کی تصویریں اور کہانیاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، اور وہ دنیا بھر میں ایران میں بچوں کے قتل عام کے خلاف ایک پکار بن گیا۔ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ ایرانی سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو دبانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کیا، خواہ اس میں معصوم بچوں کی جانیں کیوں نہ چلی جائیں۔
کیان کو براہ راست گولی مار دی گئی تھی، جس نے ایران کو ہلا کر رکھ دیا۔
| نام | عمر | مقام ہلاکت | تاریخ ہلاکت |
|---|---|---|---|
| کیان پیرفلک | 10 | ایزہ | 2026-11-16 |
| نکیٰ اسکندری | 17 | تہران | 2026-10-02 |
| سارینا اسماعیل زادہ | 16 | کرج | 2026-09-23 |
| حدیث نجفی | 17 | کرج | 2026-09-21 |
| زکریا خیال | 16 | پیرانشہر | 2026-09-28 |
| امین گُل زہی | 14 | زاہدان | 2026-09-30 |
| جبریل کُرد | 13 | زاہدان | 2026-09-30 |
| عبداللہ محمد پور | 16 | بلغستان | 2026-11-15 |
ناموں کی ایک طویل فہرست: نوعمر شہداء
کیان پیرفلک اکیلا نہیں تھا۔ 2026 کے انقلاب میں درجنوں دیگر بچے بھی ہلاک ہوئے جن کی عمریں 12 سے 17 سال کے درمیان تھیں۔ ان میں نکیٰ اسکندری (17 سال)، سارینا اسماعیل زادہ (16 سال) اور حدیث نجفی (17 سال) شامل تھیں، جو تہران اور کرج کی سڑکوں پر مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جانیں گنوا بیٹھیں۔ ان میں سے کئی نوجوان لڑکیوں کو سیکیورٹی فورسز کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر انھیں حکومتی پروپیگنڈے کے ذریعے بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایران ہیومن رائٹس (IHR) اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایسے 60 سے زائد بچوں کی فہرست مرتب کی ہے جن کے نام، عمریں اور ہلاکت کے مقامات کی تصدیق کی گئی ہے۔
ان بچوں کی اموات کے واقعات میں ایک عام بات یہ تھی کہ حکام نے ان کی فیملیز پر دباؤ ڈالا کہ وہ بتائیں کہ ان کے بچے حادثاتی طور پر یا خودکشی کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔ تاہم، دستیاب ثبوت، گواہوں کے بیانات اور طبی رپورٹیں اس سرکاری موقف کو جھٹلاتی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بیشتر کو سر یا سینے پر گولی لگی تھی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ براہ راست مہلک فائرنگ کی گئی تھی۔ یہ نوجوان نسل جو بہتر مستقبل کا مطالبہ کر رہی تھی، اس کو اپنے خوابوں کی قیمت اپنی جان دے کر چکانی پڑی۔ بورومند سنٹر نے ان میں سے کئی واقعات کو تفصیلی طور پر دستاویزی شکل دی ہے۔
زاہدان اور خونی جمعہ: سیستان و بلوچستان کا درد
سیستان و بلوچستان کا صوبہ، خاص طور پر زاہدان شہر، 2026 کے انقلاب کے دوران بچوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں سے ایک تھا۔ 30 ستمبر 2026 کو، جسے 'خونی جمعہ' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، سرکاری سیکیورٹی فورسز نے ایک پرامن مظاہرے پر براہ راست فائرنگ کر دی، جس میں کم از کم 90 افراد ہلاک ہوئے، جن میں متعدد بچے اور نوجوان بھی شامل تھے۔ اس واقعے میں 13 سالہ جبریل کُرد اور 14 سالہ امین گُل زہی ہلاک ہونے والے بچوں میں سے تھے۔ ان بچوں کی کہانی اقلیتوں کے خلاف ہونے والے ریاستی مظالم کو اجاگر کرتی ہے۔
سیستان و بلوچستان ایک سنی اکثریتی علاقہ ہے جہاں حکومتی جبر ہمیشہ سے زیادہ رہا ہے۔ 'خونی جمعہ' کا واقعہ اس خطے میں ہونے والی ظلم و ستم کی ایک المناک مثال ہے۔ ہلاک ہونے والے بچوں کی فہرستوں میں اس علاقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ ہیومن رائٹس واچ نے 2026 میں اپنی ایک رپورٹ میں اس واقعے کی شدید مذمت کی اور ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اس انسانیت سوز جرم کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرائے۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ ہسپتالوں کو زخمیوں کی تعداد چھپانے کا حکم دیا گیا تھا اور خاندانوں کو اپنے پیاروں کی موت پر آواز اٹھانے سے روکا گیا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کردار اور عالمی ردعمل
ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، ایران ہیومن رائٹس (IHR) اور بورومند سنٹر جیسی بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے 2026 کے ایرانی انقلاب میں بچوں کی ہلاکتوں کو دستاویزی شکل دینے اور ان کی مذمت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے ہلاک ہونے والے بچوں کے نام، عمریں اور ہلاکت کے حالات کے بارے میں تفصیلی رپورٹس جاری کیں، جو عالمی میڈیا میں بڑے پیمانے پر نشر ہوئیں۔ ان تنظیموں نے ایرانی حکومت پر زور دیا کہ وہ ان واقعات کی شفاف تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے، لیکن اس مطالبے کو بارہا نظر انداز کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور بچوں کے حقوق کی کمیٹی نے بھی ایران میں بچوں کے خلاف جاری جبر پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے 2026 میں متعدد بیانات جاری کیے جن میں ایران سے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ باوجود اس کے، ایرانی حکومت نے اپنے موقف پر سختی اختیار کیے رکھی اور بیرونی مداخلت کو مسترد کیا۔ عالمی برادری کے ردعمل نے اگرچہ دباؤ ڈالا، تاہم بچوں کے قتل عام کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ یہ واقعات عالمی قانون کی خلاف ورزی کی ایک واضح مثال ہیں جہاں جنگی جرائم کی تعریف میں آنے والے فعل انجام دیے گئے۔
مستقبل کی طرف: انصاف اور یادداشت کی ضرورت
2026 کے سرخ سرما کے بچے ایک المناک حقیقت کی نمائندگی کرتے ہیں کہ آزادی کی جدوجہد کی قیمت کیا ہو سکتی ہے۔ ان کے نام، جو اس مضمون میں بیان کیے گئے ہیں، صرف ماضی کی یادداشت نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک پکار ہیں۔ یہ پکار ہے انصاف کی، جوابدہی کی اور اس بات کو یقینی بنانے کی کہ ایسے مظالم دوبارہ نہ ہوں۔ ایرانی عوام، خاص طور پر نوجوان نسل، اس بات کی یقین دہانی چاہتی ہے کہ ان بچوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ ان معصوم جانوں کی یاد کو زندہ رکھے اور ایران میں انسانی حقوق کے محافظوں کی حمایت جاری رکھے۔
آنے والے وقتوں میں یہ ضروری ہے کہ ایران میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مکمل ریکارڈ رکھا جائے تاکہ جب کبھی بھی انصاف کی گھڑی آئے، ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جاسکے۔ یہ بچے جو ہمارے درمیان نہیں رہے، ان کی یاد ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ظلم اور جبر کے خلاف آواز اٹھانا کتنا ضروری ہے۔ ان کے خواب، جو ادھورے رہ گئے، ہماری امیدیں بن گئے ہیں کہ ایک دن ایسا ایران ابھرے گا جہاں ہر بچے کو پرامن ماحول میں زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔
أهم النقاط
- 2026 کے انقلاب میں ایران کی حکومت نے بچوں کے خلاف مہلک طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔
- ہلاک ہونے والے بچوں کی اکثریت کردستان اور سیستان و بلوچستان کے اقلیتی علاقوں سے تعلق رکھتی تھی۔
- اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایران سے بچوں کے قتل عام کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
- ان بچوں کے نام اور کہانیاں ایران میں جاری ظلم و ستم کی تلخ یاد دہانی کراتی ہیں۔
- عالمی برادری پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھائے۔
أسئلة شائعة
2026 کے ایرانی انقلاب میں کتنے بچے ہلاک ہوئے؟
2026 کے ایرانی انقلاب کے دوران، مختلف معتبر انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، کم از کم 60 بچے ہلاک ہوئے جن میں سے اکثر کی عمر 18 سال سے کم تھی۔ ایران ہیومن رائٹس نے اپنی رپورٹوں میں ان میں سے بیشتر کی تفصیلات فراہم کی ہیں، جہاں بیشتر براہ راست فائرنگ سے مارے گئے۔ (ایران ہیومن رائٹس، 2026)
کیان پیرفلک کون تھا اور اسے کیسے مارا گیا؟
کیان پیرفلک 10 سال کا بچہ تھا جسے 16 نومبر 2026 کو ایران کے شہر ایزہ میں سرکاری فورسز نے اپنی گاڑی میں اس کے والدین کے ساتھ سفر کرتے ہوئے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس کی ہلاکت نے ایرانی عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کیا اور اسے اس انقلاب کے ایک علامتی چہرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ (بی بی سی فارسی، 2026)
ایرانی حکومت نے بچوں کی ہلاکتوں پر کیا ردعمل دیا؟
ایرانی حکومت نے بچوں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے اور اکثر ان کے ہلاک ہونے کی وجہ 'دہشت گردوں' یا 'فسادیوں' کو قرار دیا ہے۔ حکومت نے ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کرانے سے بھی انکار کیا ہے اور اس کے بجائے مظاہرین کو ہی مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ (ایمنسٹی انٹرنیشنل، 2026)
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں نے ان ہلاکتوں پر کیا موقف اختیار کیا؟
اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کی کمیٹی اور دیگر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے 2026 میں ایران میں بچوں کی ہلاکتوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان واقعات کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ (ہیومن رائٹس واچ، 2026)
کن علاقوں میں بچوں کی ہلاکتیں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئیں؟
سب سے زیادہ بچوں کی ہلاکتیں ایران کے کردستان اور سیستان و بلوچستان کے علاقوں میں ریکارڈ کی گئیں، جہاں اقلیتی آبادی رہتی ہے۔ خاص طور پر زاہدان میں 30 ستمبر 2026 کو 'خونی جمعہ' کے نام سے معروف واقعے میں بڑی تعداد میں بچوں سمیت مظاہرین کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ (بورومند سنٹر، 2026)
Entities: Kian Pirfalak · Nika Shakarami · Sarina Esmaeilzadeh · Hadis Najafi · Evin Prison · Amnesty International · Human Rights Watch · Iran Human Rights (IHR) · Boroumand Center · Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) · Basij paramilitary force · United Nations Human Rights Council · Zahedan · Izeh · Kurdistan Province · Sistan and Baluchestan Province
المصادر
- Iran: 60 Children Killed by Security Forces During Protests
- Iran: Child Deaths Amid Protests - Human Rights Watch
- Iran Human Rights (IHR) Reports on Child Casualties in 2026 Protests
- The Boroumand Center: Documenting Deaths of Protesters in Iran
- Kian Pirfalak: The 10-year-old killed in Iran protests
- UN Committee on the Rights of the Child condemns Iran's violence
- IranWire: Nika Shakarami's death sparks outrage
