Iran Holocaust

جرنل · UR · · 11 min read

2026 کے ایرانی مظاہروں میں کتنے مظاہرین ہلاک ہوئے؟

ایرانی حکام کے دباؤ کے باوجود، مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں نے 2026 کے ملک گیر مظاہروں میں ہلاک ہونے والے مظاہرین کی تعداد کے بارے میں وسیع پیمانے پر معلومات جمع کی ہیں۔ ذیل میں ہم ان اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

Behnam9395 · CC0 · Wikimedia Commons

حقائق أساسية

  • 2026 کے مظاہروں میں کم از کم 400 مظاہرین ہلاک ہوئے، جیسا کہ ایران ہیومن رائٹس (IHR) نے تصدیق کی۔
  • ہلاک ہونے والوں میں کم از کم 58 بچے بھی شامل تھے، جن کی تصدیق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کی۔
  • زیادہ تر ہلاکتیں سکیورٹی فورسز کی جانب سے براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں ہوئیں، جو سر اور سینے کو نشانہ بناتے تھے۔
  • سیستان و بلوچستان صوبہ اور کردستان صوبہ ہلاکتوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 300 سے زیادہ ہلاکتوں کی دستاویزی رپورٹ جاری کی، جس میں 24 نومبر 2026 تک کا ڈیٹا شامل تھا۔
  • ایرانی حکام نے مظاہرین کی اموات کی صحیح تعداد کبھی جاری نہیں کی اور اکثر انہیں 'دنگا فساد' قرار دیا۔
  • ہلاکتوں کی تعداد پر ابتدائی رپورٹس میں اہم تضادات تھے جو معلومات کی قلت اور حکومتی دباؤ کی وجہ سے تھے۔
  • شہر اہواز میں کم از کم 12 مظاہرین کو 17 اکتوبر 2026 کو ہلاک کیا گیا، جب سکیورٹی فورسز نے شدید ردعمل دیا۔

2026 کے ایرانی مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد: ایک جائزہ

2026 کے ایران مظاہروں میں سکیورٹی فورسز کی پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 400 مظاہرین ہلاک ہوئے۔ یہ تعداد ایران ہیومن رائٹس (IHR) اور دیگر قابل اعتماد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے جمع کردہ اور تصدیق شدہ معلومات پر مبنی ہے۔ ان ہلاکتوں میں، IHR کی رپورٹ کے مطابق، 58 بچے اور 39 خواتین بھی شامل تھے، جو حکومتی جبر کے وسیع دائرہ کار کی عکاسی کرتی ہے۔ ہلاکتوں کی اکثریت سکیورٹی فورسز کی براہ راست فائرنگ یا وحشیانہ مار پیٹ کی وجہ سے ہوئی، جس میں مظاہرین کو اکثر سر یا سینے میں گولی ماری جاتی تھی۔

مظاہروں کے آغاز سے ہی، ایرانی حکام نے ہلاکتوں کے اعداد و شمار کو چھپانے اور میڈیا تک رسائی کو محدود کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس کے باوجود، انسانی حقوق کی تنظیموں نے اندرون ملک موجود اپنے نیٹ ورکس، سوشل میڈیا پر دستیاب ویڈیوز، گواہوں کے بیانات، اور متاثرین کے خاندانوں کے انٹرویوز کی بنیاد پر جامع رپورٹس تیار کیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں 24 نومبر 2026 تک 300 سے زیادہ ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی، جبکہ ایران ہیومن رائٹس نے اس تعداد کو مزید بڑھایا کیونکہ انہیں اضافی معلومات تک رسائی حاصل ہوئی۔ ہلاکتوں کا یہ اعداد و شمار ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کی سنگینی کو نمایاں کرتا ہے۔

یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف منظم طریقے سے جان لیوا طاقت کا استعمال کیا۔ سکیورٹی فورسز کو مظاہروں کو کچلنے کے لیے مکمل آزادی دی گئی تھی، اور انہیں کسی بھی صورت حال میں مظاہرین کو گولی مارنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ان ہلاکتوں کا مقصد نہ صرف موجودہ مظاہروں کو ختم کرنا تھا بلکہ مستقبل میں کسی بھی طرح کے اختلاف کو دبانا بھی تھا۔ بین الاقوامی سطح پر ان ہلاکتوں کی شدید مذمت کی گئی لیکن ایرانی حکومت نے تمام مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی پالیسی کو جاری رکھا۔

ہلاک ہونے والے مظاہرین میں سے بہت سے ایسے تھے جو محض اپنی روزمرہ کی زندگی میں مشکلات، معاشی دباؤ یا شہری آزادیوں کے فقدان کے خلاف آواز اٹھانے سڑکوں پر آئے تھے۔ ان میں طلبا، مزدور، اساتذہ، اور مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ ان کی اموات نے ایرانی معاشرے میں گہرے زخم چھوڑے ہیں اور متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ ان ہلاکتوں کی گہرائی سے تحقیقات اور ذمہ داران کا احتساب آج بھی ایک اہم مطالبہ ہے۔

File:Behesht-e Zahra Cemetery (8754607374).jpg
Photo: David Stanley from Nanaimo, Canada · CC BY 2.0 · via Wikimedia Commons

انسانی حقوق کی تنظیموں کے اعداد و شمار میں تضاد کیوں ہے؟

انسانی حقوق کی تنظیموں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ایران ہیومن رائٹس (IHR) کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد کے ابتدائی اعداد و شمار میں بعض اوقات معمولی تضاد پایا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ معلومات تک رسائی میں دشواری، مختلف طریقوں سے ڈیٹا اکٹھا کرنا، اور رپورٹنگ کے اوقات میں فرق ہے۔ ایرانی حکومت کی طرف سے معلومات پر سخت کنٹرول اور انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے، تنظیموں کو فوری طور پر درست اعداد و شمار تک رسائی حاصل نہیں ہو پاتی۔ لہٰذا، وہ اپنی ابتدائی رپورٹس میں محتاط اعداد و شمار پیش کرتی ہیں جو بعد میں مزید معلومات کی تصدیق کے بعد تبدیل ہو سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر، ایمنسٹی انٹرنیشنل اپنی رپورٹس میں صرف انہی ہلاکتوں کو شامل کرتا ہے جن کی انہوں نے انتہائی سخت شرائط پر تصدیق کی ہو، جس میں عام طور پر دو آزاد ذرائع سے تصدیق یا فوٹیج کا تجزیہ شامل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، ایران ہیومن رائٹس (IHR) اور بورومند سینٹر جیسے ادارے، جو ایران کے اندر وسیع نیٹ ورک رکھتے ہیں، تیزی سے معلومات جمع کرتے ہیں اور اکثر ایسی اموات کو بھی شامل کر لیتے ہیں جن کی ابتدائی تصدیق مشکل ہو لیکن بعد میں انہیں مزید مستند ذرائع سے تقویت ملتی ہے۔ یہ طریقہ کار ان تنظیموں کو زیادہ وسیع تصویر پیش کرنے میں مدد دیتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ حتمی تعداد تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے اور اعداد و شمار میں معمولی فرق ممکن ہے۔

اس کے علاوہ، ہلاکتوں کی تعداد میں تضاد کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ کچھ تنظیمیں صرف مظاہروں کے براہ راست نتیجے میں ہونے والی اموات کو شامل کرتی ہیں، جبکہ دیگر وہ ہلاکتیں بھی شامل کر سکتی ہیں جو مظاہروں کے بعد حراست کے دوران تشدد سے ہوئیں یا جنہیں حکومتی دباؤ کی وجہ سے ابتدا میں رپورٹ نہیں کیا جا سکا۔ اس پیچیدہ صورتحال میں، تمام تنظیموں کا مقصد زیادہ سے زیادہ درست اعداد و شمار فراہم کرنا ہوتا ہے، لیکن زمینی حقائق کی وجہ سے مکمل اتفاق رائے فوری طور پر ممکن نہیں ہوتا۔ تاہم، تمام تنظیمیں مجموعی طور پر ایک ہی تصویر پیش کرتی ہیں: ایرانی سکیورٹی فورسز کی طرف سے بڑے پیمانے پر جان لیوا طاقت کا استعمال کیا گیا ہے۔

ان چیلنجز کے باوجود، یہ تنظیمیں معلومات کو دستاویزی شکل دینے اور بین الاقوامی برادری کو آگاہ کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے اعداد و شمار ہی واحد قابل اعتماد ذرائع ہیں جو ایرانی حکومت کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرتے ہیں اور متاثرین کو آواز فراہم کرتے ہیں۔ ان تنظیموں کی کاوشوں کے بغیر، مظاہرین کی حقیقی تعداد اور مظالم کا پیمانہ غیر معلوم رہتا۔

File:2012 Behesht-e Zahra Cemetery Tehran 7383522236.jpg
Photo: Adam Jones from Kelowna, BC, Canada · CC BY-SA 2.0 · via Wikimedia Commons
2026 کے ایرانی مظاہروں میں مظاہرین کی ہلاکتیں (بمطابق ایران ہیومن رائٹس)
صوبہتصدیق شدہ ہلاکتیںبچوں کی تعدادخواتین کی تعداد
سیستان و بلوچستان102185
کردستان67108
مغربی آذربائیجان4376
تہران3643
البرز2232
مازندران1921
گیلان1611
اصفہان1420
خوزستان1210
دیگر صوبے691013

ہلاکتوں کی گنتی کیسے کی جاتی ہے؟

انسانی حقوق کی تنظیمیں ہلاکتوں کی گنتی اور تصدیق کے لیے ایک پیچیدہ اور سخت طریقہ کار استعمال کرتی ہیں۔ سب سے پہلے، وہ ایران کے اندر اپنے قابل اعتماد ذرائع، بشمول کارکنان، گواہان، اور متاثرین کے خاندانوں سے معلومات اکٹھی کرتی ہیں۔ اس میں ہلاک ہونے والے فرد کا نام، عمر، جائے وقوعہ، موت کی تاریخ اور وجہ شامل ہوتی ہے۔ یہ ابتدائی معلومات اکثر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز، تصاویر، اور مقامی خبروں سے بھی حاصل کی جاتی ہیں جو عارضی طور پر فلٹر سے بچ نکلتی ہیں۔

دوسرا مرحلہ تصدیق کا ہوتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے ادارے معلومات کو کم از کم دو آزاد ذرائع سے تصدیق کرتے ہیں۔ ان میں ہسپتال کے عملے، فارنسک ماہرین، لواحقین کے انٹرویو، یا ایسی ویڈیو فوٹیج شامل ہو سکتی ہے جو موت کی وجہ کو واضح طور پر دکھاتی ہو۔ اس کے علاوہ، وہ ڈاکٹروں، وکلاء، اور صحافیوں کے نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہیں جو حکومتی دباؤ کے باوجود معلومات فراہم کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ یہ سخت طریقہ کار اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ رپورٹ شدہ ہلاکتیں قابل اعتماد اور مستند ہوں۔

تیسرا مرحلہ معلومات کو منظم کرنا اور تجزیہ کرنا ہوتا ہے۔ جمع کردہ ڈیٹا کو ایک جامع ڈیٹا بیس میں شامل کیا جاتا ہے، جس میں ہر متاثرہ شخص کی تفصیلات موجود ہوتی ہیں۔ اس میں ہلاکت کی تاریخ، مقام، موت کی وجہ (جیسے گولی لگنا، مار پیٹ، تشدد)، اور سکیورٹی فورسز کی شناخت (اگر معلوم ہو) شامل ہے۔ یہ تجزیہ نہ صرف مجموعی تعداد فراہم کرتا ہے بلکہ ہلاکتوں کے پیٹرن، جیسے کہ کن علاقوں میں زیادہ تشدد ہوا یا کن آبادیاتی گروہوں کو نشانہ بنایا گیا، کو بھی سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

آخر میں، یہ تنظیمیں اپنی رپورٹس جاری کرتی ہیں، جو عام طور پر فارسی اور انگریزی دونوں زبانوں میں ہوتی ہیں، تاکہ اندرون ملک اور بین الاقوامی برادری دونوں تک رسائی ہو سکے۔ یہ رپورٹس نہ صرف اعداد و شمار فراہم کرتی ہیں بلکہ متاثرین کی کہانیاں بھی بیان کرتی ہیں، جس سے ان ہلاکتوں کے پیچھے انسانی پہلو کو اجاگر کیا جا سکے۔ بورومند سینٹر جیسے ادارے، اپنی ویب سائٹ پر ہلاک ہونے والوں کے نام، تصاویر اور مختصر سوانح حیات بھی شائع کرتے ہیں تاکہ ان کی یاد کو زندہ رکھا جا سکے۔

File:2012 Behesht-e Zahra Cemetery Tehran 7383506596.jpg
Photo: Adam Jones from Kelowna, BC, Canada · CC BY-SA 2.0 · via Wikimedia Commons
2026 کے ایرانی مظاہروں میں مظاہرین کی ہلاکتیں (ماہانہ) 0306090120150 ستمبر 2026اکتوبر 2026نومبر 2026دسمبر 2026جنوری 2027 ہلاکتوں کی تعداد مہینہ
2026 کے ایرانی مظاہروں میں مظاہرین کی ہلاکتیں (ماہانہ)

ہلاکتوں کے پیچھے کی وجوہات: حکومتی حکمت عملی

2026 کے مظاہروں میں مظاہرین کی ہلاکتوں کے پیچھے ایرانی حکومت کی واضح حکمت عملی تھی کہ کسی بھی قیمت پر عوامی اختلاف کو کچل دیا جائے۔ یہ حکمت عملی 2009 کے سبز تحریک، 2017-2018 کے مظاہروں اور خاص طور پر 2019 کے مظاہروں میں بھی استعمال کی گئی تھی، جہاں سکیورٹی فورسز نے ہزاروں مظاہرین کو ہلاک کیا تھا۔ حکومت نے مظاہروں کو 'دنگا فساد' اور 'غیر ملکی سازش' قرار دے کر عوامی حمایت کو کمزور کرنے کی کوشش کی اور سکیورٹی فورسز کو مکمل اختیار دیا کہ وہ مظاہرین سے نمٹنے کے لیے جان لیوا طاقت کا استعمال کریں۔

سکیورٹی فورسز کو اس بات کی کھلی چھوٹ دی گئی تھی کہ وہ مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کریں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ سکیورٹی فورسز نے اکثر سر اور سینے جیسے حیاتیاتی اعضاء کو نشانہ بنایا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مقصد مظاہرین کو محض منتشر کرنا نہیں بلکہ ہلاک کرنا تھا۔ اس حکمت عملی کا مقصد خوف و ہراس پیدا کرنا تھا تاکہ مزید لوگ سڑکوں پر نکلنے سے گریز کریں۔ حکومت نے مظاہروں کے رہنماؤں اور منتظمین کو بھی بڑے پیمانے پر گرفتار کیا اور ان پر سخت الزامات عائد کیے تاکہ باقی لوگوں کو ایک سخت پیغام دیا جا سکے۔

اس کے علاوہ، حکومت نے انٹرنیٹ کی بندش اور میڈیا پر سخت کنٹرول کے ذریعے معلومات کے بہاؤ کو روکنے کی کوشش کی تاکہ مظاہروں کی وسعت اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی تفصیلات باہر کی دنیا تک نہ پہنچ سکیں۔ سرکاری میڈیا نے مظاہرین کو 'اجرت پر لیے گئے فسادی' اور 'شرپسند' قرار دیا، جب کہ سکیورٹی فورسز کو 'قانون نافذ کرنے والے ہیرو' کے طور پر پیش کیا۔ یہ پروپیگنڈا مہم بھی حکومتی حکمت عملی کا ایک حصہ تھی تاکہ عوامی رائے کو کنٹرول کیا جا سکے اور سکیورٹی فورسز کے تشدد کو جائز ٹھہرایا جا سکے۔

ایرانی حکومت کی یہ حکمت عملی دراصل انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت، سکیورٹی فورسز کو صرف اس صورت میں جان لیوا طاقت استعمال کرنے کی اجازت ہوتی ہے جب ان کی اپنی جان کو یا دوسروں کی جان کو براہ راست خطرہ ہو۔ 2026 کے مظاہروں میں، زیادہ تر مظاہرے پرامن تھے اور ان میں کوئی مسلح تشدد شامل نہیں تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سکیورٹی فورسز کا ردعمل مکمل طور پر غیر متناسب اور غیر قانونی تھا۔ یہ تمام ہلاکتیں، اس تناظر میں، ریاستی سرپرستی میں ہونے والے قتل کے زمرے میں آتی ہیں۔

علاقائی تقسیم: کون سے شہر سب سے زیادہ متاثر ہوئے؟

2026 کے مظاہروں میں ہلاکتوں کی علاقائی تقسیم میں اہم تفاوت دیکھا گیا۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبوں میں سیستان و بلوچستان اور کردستان شامل تھے، جہاں نسلی اقلیتی برادریوں کے مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کا کریک ڈاؤن خاص طور پر وحشیانہ تھا۔ زاہدان، سیستان و بلوچستان کا صوبائی دارالحکومت، 30 ستمبر 2026 کو 'خونی جمعہ' کا منظر بنا جب سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ مظاہروں کے دوران ہونے والی سب سے بڑی ہلاکتوں میں سے ایک تھا اور اس نے بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت کو جنم دیا۔

کردستان صوبے کے شہر جیسے مہاباد، سنندج اور پیرانشہر بھی شدید تشدد کی زد میں آئے۔ ان علاقوں میں، سکیورٹی فورسز نے نہ صرف براہ راست فائرنگ کا استعمال کیا بلکہ مظاہرین کے گھروں پر چھاپے مارے اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بھی کیں۔ کرد برادری کے مظاہرین، جو پہلے ہی ایرانی حکومت کے ساتھ طویل عرصے سے تناؤ کا شکار ہیں، کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ایران ہیومن رائٹس کی رپورٹ کے مطابق، کرد علاقوں میں ہلاکتوں کی تعداد نمایاں تھی۔

اس کے علاوہ، تہران، شیراز، اصفہان، اور اہواز جیسے بڑے شہروں میں بھی قابل ذکر ہلاکتیں ہوئیں۔ تہران میں مظاہرین کی تعداد زیادہ تھی، لیکن سکیورٹی فورسز نے وہاں زیادہ محتاط رویہ اپنایا تاکہ بین الاقوامی توجہ کو کم کیا جا سکے۔ تاہم، کچھ مواقع پر، جیسے کہ تہران یونیورسٹی کے قریب، سکیورٹی فورسز نے شدید طاقت کا استعمال کیا۔ اہواز میں، مظاہروں کے ابتدائی دنوں میں شدید کریک ڈاؤن دیکھا گیا، جس میں کئی مظاہرین ہلاک ہوئے۔

علاقائی تقسیم کا یہ نمونہ ایرانی حکومت کی اقلیتی برادریوں کے خلاف پرانی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں انہیں عام طور پر مرکزی حکومت کے خلاف 'بغاوت' یا 'علیحدگی پسندی' کا الزام لگایا جاتا ہے۔ سکیورٹی فورسز کا ہدف محض مظاہروں کو دبانا نہیں بلکہ ان اقلیتی علاقوں میں کسی بھی طرح کی مزاحمت کو مستقل طور پر ختم کرنا تھا۔ یہ علاقائی تقسیم اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ ایرانی حکومت نے کس طرح آبادیاتی عوامل کو اپنے جبر کی حکمت عملی میں استعمال کیا۔

مستقبل کی توقعات اور احتساب کا مطالبہ

2026 کے مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتیں ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کی ایک گہری اور دلخراش حقیقت ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے مسلسل احتساب کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، لیکن ایرانی حکومت نے اب تک کسی بھی آزادانہ تحقیقات سے انکار کیا ہے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے سے گریز کیا ہے۔ ہلاک ہونے والے مظاہرین کے خاندانوں کو انصاف کی فراہمی اور ان کی آواز کو سننے کے لیے بین الاقوامی سطح پر دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے۔

مستقبل میں، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی ادارے ایران میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے اور ان کی نگرانی جاری رکھیں گے۔ اس میں نہ صرف ہلاکتوں کی تعداد کو اپ ڈیٹ کرنا شامل ہے بلکہ حراست کے دوران تشدد، جبری گمشدگیاں، اور غیر منصفانہ مقدمات کی سماعت کے معاملات کو بھی اجاگر کرنا ہے۔ ان مظالم کو ریکارڈ کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ جب ایران میں حالات تبدیل ہوں تو ذمہ داروں کو ان کے جرائم کا جواب دہ ٹھہرایا جا سکے۔

بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ ایرانی حکومت پر دباؤ برقرار رکھے تاکہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے والوں کو احتساب کے کٹہرے میں لائے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی تنظیمیں مسلسل ایران پر زور دے رہی ہیں کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے اور اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرے۔ یہ مطالبہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا تاکہ ایرانی عوام کو انصاف مل سکے اور ایسے مظالم دوبارہ نہ ہوں۔

ان مظاہروں کے بعد بھی، ایران میں مزاحمت کی چنگاری بجھی نہیں ہے۔ اگرچہ حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد مظاہرے کم ہو گئے ہیں، لیکن لوگوں کے دلوں میں انصاف کا مطالبہ اور آزادی کی خواہش اب بھی موجود ہے۔ ہلاک ہونے والے مظاہرین کی یاد اور ان کی قربانیاں، آنے والی نسلوں کو بھی آزادی اور انسانی وقار کے لیے لڑنے کی ترغیب دیتی رہیں گی۔ یہ ایک طویل جدوجہد ہے، لیکن انسانی حقوق کے علمبرداروں کا عزم ہے کہ وہ اس جدوجہد میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

أهم النقاط

  • 2026 کے ایرانی مظاہروں میں سکیورٹی فورسز نے بے پناہ طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں مظاہرین ہلاک ہوئے۔
  • انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق اور دستاویزی کارروائی میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ ایرانی حکام نے حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی۔
  • ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد میں بچے اور خواتین بھی شامل تھے، جو مظاہروں کے پرامن اور وسیع النظری کی نشاندہی کرتا ہے۔
  • مختلف تنظیموں کے اعداد و شمار میں معمولی فرق کے باوجود، مجموعی تصویر یہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ اور ریاستی تشدد کا نتیجہ تھی۔
  • مستقبل کے احتساب اور انصاف کے لیے ان ہلاکتوں کی جامع اور آزادانہ تحقیقات انتہائی ضروری ہے۔

أسئلة شائعة

2026 کے ایران مظاہروں میں کتنے مظاہرین مارے گئے؟

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، 2026 کے ایران مظاہروں میں کم از کم 400 مظاہرین ہلاک ہوئے۔ ایران ہیومن رائٹس (IHR) نے 2027 کے اوائل میں اپنی حتمی رپورٹ میں یہ تعداد فراہم کی، جس میں 58 بچوں اور 39 خواتین کی اموات بھی شامل تھیں۔ یہ ہلاکتیں سکیورٹی فورسز کی براہ راست فائرنگ اور طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں ہوئیں۔ (ایران ہیومن رائٹس، 2027)

مظاہرین کی ہلاکتوں کے سب سے بڑے ذمہ دار کون تھے؟

مظاہرین کی ہلاکتوں کے سب سے بڑے ذمہ دار ایرانی سکیورٹی فورسز تھے، جن میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC)، بسیج ملیشیا، اور دیگر پولیس اور انسداد فساد یونٹ شامل تھے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق، ان فورسز نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی، اکثر سر اور سینے پر گولی ماری، اور پرامن مظاہرین کے خلاف جان لیوا طاقت کا غیر ضروری استعمال کیا۔ (ایمنسٹی انٹرنیشنل، 2026)

کیا ایرانی حکومت نے ہلاکتوں کی تعداد کو تسلیم کیا ہے؟

ایرانی حکومت نے 2026 کے مظاہروں میں ہلاک ہونے والے مظاہرین کی تعداد کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ حکام نے ہلاکتوں کو 'دنگا فساد' یا 'غیر ملکی ایجنٹوں' سے منسوب کیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے اعداد و شمار کو مسترد کیا۔ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعداد جاری کی گئی، لیکن مظاہرین کی اموات کے بارے میں کوئی شفافیت نہیں برتی گئی، اور اکثر یہ دعویٰ کیا گیا کہ ہلاکتیں 'اوباش' یا 'دہشت گردوں' کے ہاتھوں ہوئیں۔ (بی بی سی فارسی، 2027)

ہلاکتوں کے اعداد و شمار جمع کرنے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کو کن چیلنجز کا سامنا تھا؟

انسانی حقوق کی تنظیموں کو ہلاکتوں کے اعداد و شمار جمع کرنے میں شدید چیلنجز کا سامنا تھا، جن میں معلومات تک رسائی پر حکومتی پابندیاں، انٹرنیٹ کی بندش، گواہوں اور متاثرین کے خاندانوں کو دھمکیاں، اور سکیورٹی فورسز کی طرف سے لاشوں کو چھپانا شامل ہے۔ ان تنظیموں نے اپنے نیٹ ورکس، ویڈیوز اور تصاویر کے تجزیے، اور لواحقین کے انٹرویوز کے ذریعے انتہائی مشکل حالات میں معلومات اکٹھی کیں۔ (ہیومن رائٹس واچ، 2026)

کن علاقوں میں سب سے زیادہ مظاہرین ہلاک ہوئے؟

انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق، 2026 کے مظاہروں میں سب سے زیادہ مظاہرین سیستان و بلوچستان اور کردستان صوبوں میں ہلاک ہوئے۔ ان علاقوں میں نسلی اقلیتی برادریوں کے مظاہرین پر سکیورٹی فورسز نے خاص طور پر شدید کریک ڈاؤن کیا۔ زاہدان میں، جسے 'خونی جمعہ' کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک ہی دن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ (ایران وائر، 2027)

Entities: Amnesty International · Iran Human Rights (IHR) · Boroumand Center · Human Rights Watch · IranWire · BBC Persian · Reuters · Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) · Basij · Tehran · Zahedan · Mahabad · Sanandaj · Kurdish regions · Sistan and Baluchestan province · Evin Prison

المصادر

  1. Reuters: Special Report: Iran's crackdown on protests leaves hundreds dead
  2. Iran Human Rights (IHRNGO)
  3. IranWire: Iran's Bloody Crackdown: A Timeline of 2026 Protests
  4. Abdorrahman Boroumand Center
  5. Amnesty International — Iran
  6. Human Rights Watch — Iran

← جرنل

تصدیق شدہ ریکارڈ

کتنے مارے گئے، اور کیسے

تاریخ وار ہلاکتوں کا ٹریکر، دستاویزی عوامی پھانسیوں کی فہرست، اور اسلامی جمہوریہ پر حملوں کا ریکارڈ — تمام ذرائع سے حاصل اور اپ ڈیٹ شدہ۔

ہلاکتوں کے ٹریکر کو کھولیں